Home / Urdu News / ’پاکستان اور انڈیا کے درمیان تجارت دونوں کے تعلقات کی طرح پیچیدہ ہے‘

’پاکستان اور انڈیا کے درمیان تجارت دونوں کے تعلقات کی طرح پیچیدہ ہے‘

’پاکستان اور انڈیا کے درمیان تجارت دونوں کے تعلقات کی طرح پیچیدہ ہے‘

نومبر کی دھند والی ایک صبح لاہور میں محمد صدیق اپنی ریڑھی کی ترتیب کو اس امید کے ساتھ درست کر رہے ہیں کہ اس سے زیادہ گاہک متوجہ ہوں گے۔

محمد صدیق سبزی فروش ہیں اور وہ واہگہ کے سرحدی گاؤں میں قائم ایک عارضی مارکیٹ میں سبزیاں فروخت کرتے ہیں۔ یہ گاؤں انڈیا سے صرف چار کلو میٹر دور ہے۔

ان کا کہنا ہے ‘ہمیں ایک باکس کے لیے پاکستانی چودہ سو روپے ادا کرنے پڑتے ہیں اور ہمیں اس سے بمشکل دس کلو ٹماٹر حاصل ہوتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں اپنے بچوں کی پرورش کیسے کروں گا اور اس لڑکے کو کہاں سے پیسے دوں گا؟’

محمد صدیق افسردہ دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کاروبار اچھا نہیں چل رہا ہے۔

انھوں نے مجھے سرحد کے قریب واقع سکیورٹی پوسٹ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا ‘لوگوں نے ٹماٹر خریدنے بند کر دیے ہیں کیونکہ اتنے مہنگے ٹماٹر ان کی قوتِ خرید سے باہر ہیں۔‘

’سرحد بہت قریب ہے اس لیے ہمیں ٹماٹر سستے ملنے چاہییں لیکن یہ بہت مہنگے ہیں۔’

یہ بھی پڑھیے

باجوڑ جہاں ‘اربوں کی تجارت’ ہوتی تھی

ایم ایف این پاکستان کے لیے بے معنی

پاکستان کی ایران سے تجارت میں اضافے کا امکان

امرتسر سے چند کلو میٹر آگے سیزن کے عروچ پر ٹماٹر تین روپے کلو فروخت ہوتا تھا۔ قیمت میں استحکام آیا ہے لیکن سرحد پار قیمت میں ابھی بھی بہت فرق ہے۔ انڈیا حالیہ برسوں میں واہگہ سرحد کے ذریعے پاکستان میں پھل اور سبزیاں برآمد کرتا رہا ہے تاہم یہ تجارت گذشتہ چند مہینوں سے رک چکی ہے۔

انڈو، پاک ایکسپوٹرز چیمبر آف کامرس ان امرتسر کے صدر راجدیپ اوپل اس کی وجہ بتاتے ہیں۔

‘پاکستان کی حکومت نے گذشتہ برس سے انڈیا سے جلد خراب ہونے والی اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ اس حقیقت کے باوجود کہ ہم دونوں ممالک کے درمیان پائی جانے والی مطلوبہ ضروریات پر مکمل عملدرآمد کرتے ہیں اور ہم اپنی اشیا کے ساتھ انڈین پلانٹ سرٹیفیکیٹ بھی منسلک کرتے ہیں۔’

انڈیا اور پاکستان کے درمیان تجارت دونوں ممالک کے تعلقات کی طرح پیچیدہ ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان واہگہ سرحد ہی کم اور آسان ترین تجارتی راستہ ہے لیکن اسے سب سے کم استعمال کیا جاتا ہے۔

پاکستان واہگہ کی سرحد سے 137 مختلف اشیا کی درآمد کی اجازت دیتا ہے جن میں جلد خراب ہونے والی اشیا بھی شامل ہیں۔ تاہم گذشتہ چند مہینوں سے پاکستان کے پلانٹ قرنطینہ ڈیپارٹمنٹ نے انڈیا سے درآمد ہونے والے پھلوں اور سبزیوں پر نو آبجیکشن سرٹیفیکیٹ جاری کرنا بند کر دیا ہے۔

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر آفتاب وہرہ کا کہنا ہے کہ ‘یہ نان ٹیرف بیرئیر ہے۔’

‘پنجاب کے دونوں اطراف کے صارفین، صنعت کار اور تاجر یہ محسوس کرتے ہیں کہ واہگہ کے ذریعہ تجارت سے انھیں فائدہ ہو گا لیکن انڈیا اور پاکستان کی حکومتیں ایک دوسرے کے خلاف مختلف حربے استعمال کرتی ہیں۔

امرتسر اور لاہور کے درمیان صرف پچاس کلو میٹر کا فاصلہ ہے جس کا مطلب ہے کہ کسی ایک جانب سے آنے والی اشیا بہت آسانی سے سرحد پار کر سکتی ہیں لیکن حقیقت میں یہ بہت مشکل ہے۔

عظمی شاہد لاہور میں گارمنٹس کی فیکٹری چلاتی اور انڈیا سے کپٹرا درآمد کرتی ہیں۔

ان کے بقول ‘انڈیا کے ساتھ کاروبار آسان نہیں ہے۔’

انھوں نے بتایا ‘سرحد کی دونوں جانب انڈیا اور پاکستان مخالف عناصر کی وجہ سے ہمیں اپنا مال کلیئر کروانے میں ہفتے اور مہینے لگ جاتے ہیں۔’

عظمی شاہد کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے کسٹم ڈیپارٹمنٹس بھی صرف ایک رکارٹ نہیں ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا ‘ ملٹی انٹری ویزا حاصل کرنا بہت مشکل ہے اور ہمیں کاروباری دوروں کے دوران اور بعد میں انڈین اور پاکستانی حکام کی جانب سے زیادہ جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔’

پاکستان اور انڈیا کے درمیان کاروباری تجارت کا حجم بیس لاکھ روپے سالانہ ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان زیادہ تر تجارت بندرگاہوں کے ذریعے ہوتی ہے لیکن اس میں سب کچھ دستاویزی نہیں ہے خاص طور پر تیسرے ممالک کے ساتھ تجارت۔

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر آفتاب وہرہ کا کہنا ہے انڈیا سے جلد خراب ہونے والی درآمدی اشیا پر پابندی کا مقصد مقامی کسانوں کی مدد کرنا ہے۔

ان کے بقول ‘انڈیا کے کسان سبسڈی حاصل کر رہے ہیں اور ہمارے کسان اپنی اشیا کی قیمتوں کی وجہ سے ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے لہذاٰ انھیں کچھ وقت دیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اگر وہ اپنی پیداوار کو بہتر بنا سکتے ہیں۔’

لیکن صارفین قیمت ادا کر رہے ہیں۔ ٹماٹر اور پیاز جیسی بنیادی اشیا کی قیمتیں ابھی تک آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں۔

امرتسر چیمبر آف کامرس کے صدر راجدیپ اوپل کے بقول ‘ یہ واضح طور پر ایک سیاسی فیصلہ ہے۔

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر آفتاب وہرہ کا کہنا ہے ‘ اگرچہ کشمیر کا تنازع ابھی حل نہیں ہوا ہے اس کے باجود ہم انڈیا کے ساتھ کاروبار کر چکے ہیں۔ ہم یقینی طور پر انڈیا کے ساتھ مزید کاروبار کر سکتے ہیں۔ یہ صرف نیت پر منحصر ہے۔ یا تو نیت ہے ہی نہیں یا پھر کاروبار کرنے کے حق میں نہیں ہے۔’

پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشدگی کے باوجود لائن آف کنٹرول پر باقاعدگی سے تجارت ہوتی ہے۔

About admin

Check Also

15 افراد کے قتل میں ملوث، کالعدم تنظیم کا کمانڈر ہلاک کرنے کا دعویٰ

15 افراد کے قتل میں ملوث، کالعدم تنظیم کا کمانڈر ہلاک کرنے کا دعویٰ تصویر …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *