Home / Urdu News / ’لاہور میں درختوں کو مارا جا رہا ہے`

’لاہور میں درختوں کو مارا جا رہا ہے`

’لاہور میں درختوں کو مارا جا رہا ہے`

Image caption

لاہور میں بے حساب درخت کٹ رہے ہیں اور ان کی جگہ لگائے جانے والے پودے جب تک درخت بنیں گے تب تک ناقابل تلافی نقصان ہو جائے گا: ماحولیاتی کارکن

موسمی تبدیلیوں اور سموگ کے باعث پریشان لاہور کے رہائشیوں کو اب شہر میں جاری درختوں کی کٹائی مزید پریشان کر رہی ہے۔ ایسے وقت میں جہاں دنیا بھر میں ماحولیات کو بہتر بنانے کے لیے شجرکاری کی جا رہی ہیں وہیں کیا سڑکوں کی کشادگی کے لیے50 سے 100 سال پرانے درختوں کی قربانی درست عمل ہے؟ انفراسٹرکچر اہم یا انسانوں کی صحت؟

لاہور میں کئی مہینوں سے جاری کنال روڈ کی کشادگی اور دھرم پورہ مغل پورہ کے درمیان بننے والے انڈرپاس کے باعث علاقہ مکین اور مسافروں کا سانس لینا بھی دشوار ہے۔ اوپر سے سموگ کا وار۔ ایسے میں اوکسیجن پیدا کرنے والے درخت بھی کٹ رہے ہیں تو ماہرین کا سوال ہے کہ آخر ماحولیات اور انسانی صحت کے بارے میں کون سوچے گا۔

پنجاب کی وزیر برائے ماحولیات، ذکیہ شاہ نوار کا کہنا ہے کہ عوام کو سمجھنا چاہیے کہ ان کی بہتری کے لیے ہی درخت کاٹے ہیں، اور مستقبل میں نئے درخت لگائیں گے بھی۔

Image caption

لاہور شہر میں ہونے والے ترقیاتی پراجیکٹس کے باعث درختوں کی بے حساب کٹائی ہوئی ہے: لاہور بچاؤ تحریک

’درخت کاٹے گئے ہیں تو وہ کوئی خوشی سے نہیں کاٹے، خوشی سے تو وہی کاٹے گا جس کو سمجھ نہ ہو مگر آپ ذرا لاہور کی ٹریفک کا حال دیکھیں۔ ہیلتھ اور ایجوکیشن ہماری حکومت کی ترجیح ہے، اگر آپ یہ کہیں کہ یہ ہماری ترجیح نہیں ہے، تو یہ غلط ہے۔ یہ سب ترقی کا حصہ ہے البتہ ہم درخت لگائیں گے۔ ہمارے پاس ایک بڑا فنڈ ہے اسکے لیے، اور ہم درخت لگا رہے ہیں، وقت کے ساتھ آپ دیکھیں گے۔‘

پنجاب کی وزارت ماحولیات کے مطابق صوبے میں 2 بلین درخت لگانے کی مہم کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل کا وقت، بجٹ اور طریقہ کار ابھی تک واضح نہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایسی غیر حقیقی مہم بڑھتی ہوئی آبادی کے شہر لاہور کو ماحولیاتی آلودگی سے کیسے پاک رکھ پائے گی؟

دوسری جانب ماحولیاتی کارکن ڈاکٹر اعجاز انور نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لاہور میں بے حساب درخت کٹ رہے ہیں اور ان کی جگہ لگائے جانے والے پودے جب تک درخت بنیں گے تب تک ناقابل تلافی نقصان ہو جائے گا۔

`لوگ درخت لگاتے ہیں اور ہم بے دریغ درخت کاٹے جا رہے ہیں۔ لاہورکی نہر پردرختوں کی کٹائی کے خلاف ہم نے سپریم کورٹ سے 2014 میں رابطہ کیا تھا۔ اس پر ایک کامپرومائز کورٹ میں ہوا تھا کہ چنندہ مقامات پر جہاں ٹریفک کا دباؤ بڑھ جاتا ہے وہاں مخصوص تعداد میں درختوں کی کٹائی کی اجازت دی گئی مگر حکومت تعین کردہ تعداد سے زیادہ کٹوتی کر رہی ہے اور اس کے بدلے جو سجاوٹی درخت اور پھولوں والی جھاڑیاں لگائی جا رہی ہیں، وہ کبھی بھی ایک پرانے درخت کے بائیو ماس کے برابر نہیں ہو سکتیں۔ ان پودوں کو کم سے کم پچاس سال لگیں گے ایک درخت بننے میں۔`

کنال کشادگی پراجیکٹ کے چیف انجینئر اسرار سعید نے ان تمام اعتراضات کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب جو نظر آرہا ہے وہ محض درختوں کی کانٹ چھانٹ ہے، کٹائی نہیں۔

`جتنے درخت کاٹنے تھے وہ کٹ چکے ہیں، اب جو آپ دیکھ رہے ہیں وہ درختوں کی ٹرمنگ یعنی کانٹ چھانٹ ہو رہی ہے، ان درختوں کی صفائی جن پر بجلی کی تاریں لٹک رہی ہیں۔اس پروجیکٹ میں ہربنس پورہ سے ٹھوکر نیاز بیگ تک ہم نے کل تین ہزار کے قریب درخت کاٹے ہیں اور عدالت میں یہی طے ہوا تھا۔ ان تین ہزار کی جگہ پی ایچ اے نے ایک لاکھ پودے لگائے ہیں۔`

Image caption

عوام کو سمجھنا چاہیے کہ درخت ان کی بہتری کے لیے کاٹے جا رہے ہیں: وزیر ماحولیات پنجاب

ڈاکٹر اعجاز انور اور سول سوسائٹی کی لاہور بچاؤ تحریک کا موقف ہے کہ صرف کنال ہی نہیں بلکہ پورے لاہور شہر میں ہونے والے ترقیاتی پراجیکٹس کے باعث، درختوں کی بے حساب کٹائی ہوئی ہے جن سے صرف انسان ہی نہیں بلکہ پورا معاشرہ متاثر ہوا ہے اور ڈینگی اور سموگ بھی اسی وجہ سے پھیلا ہے۔

`ان علاقوں میں رہنے والے بچے درختوں کے ارد گرد کھیلتے تھے، یہ بچپن کی ٹریننگ کا بڑا حصہ ہے۔ بوڑھے ریٹائرڈ لوگ بھی ان درختوں کے سائے تلے وقت گزارتے تھے۔ ماحولیاتی پہلو دیکھیں تو ان درختوں پر پرندے بیٹھتے تھے اور زہریلے کیڑوں کو کھاتے تھے، ڈینگی بھی اسی لیے پھیلا کہ وہ پرندے یا تو غائب ہو گئے یا مہاجر۔ درخت کاٹ کر سڑکیں اور ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنا دی گئی ہیں تو سموگ تو پھیلے گی۔ اب حکومت ان سو سال پرانے درختوں کی جگہ غیر ملکی اور مہنگے درخت لگائے جا رہے ہیں جن کا سایا بھی نہیں ہے اور انکی لکڑی بھی نہیں بنے گی۔ جو پھل کبھی نہیں دیں گے۔ فکر کی بات یہ ہے کہ جو درخت بچ گئے ہیں وہ بھی پراسرار طور پر سوکھ رہے ہیں، ان درختوں کو مارا جا رہا ہے جو ایک خطرناک رجحان ہے۔`

اس مسئلے کا حل بتاتے ہوئے ڈاکٹر اعجاز انور کا کہنا ہے کہ نوجوان نسل کو اب ان درختوں کی ذمہ داری لینی ہو گی۔ `پاکستان میں اونرشپ کی ضرورت ہے۔ اگر ہمارے بچے کہیں گے کہ یہ درخت میرا ہے اور اس کو اپنا فرض سمجھ کر اس کا خیال رکھیں گے۔ نئے درخت لگائیں گے اور پرانے درخت نہیں کٹنے دیں گے۔ ترجیحات بدلنے کا وقت آگیا ہے۔ ماحول اب ہم سب کی ترجیح ہونی چاہیے۔ درختوں کو بچانے کے لئے کسی قانون کی ضرورت نہیں۔ قانون سے طاقتور شعور ہوتا ہے، اگر ہمارے لوگوں میں شعور آگیا تو نہ وہ خود ماحول کو خراب کریں گے نہ کسی اور کو کرنے دیں گے۔`

About admin

Check Also

15 افراد کے قتل میں ملوث، کالعدم تنظیم کا کمانڈر ہلاک کرنے کا دعویٰ

15 افراد کے قتل میں ملوث، کالعدم تنظیم کا کمانڈر ہلاک کرنے کا دعویٰ تصویر …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *