Home / Urdu News / سوشلستان: زینب کے قتل پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ

سوشلستان: زینب کے قتل پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ

سوشلستان: زینب کے قتل پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ

تصویر کے کاپی رائٹ
Twitter

Image caption

پاکستان عوامی تحریک کے رہنما بھی قصور پہنچے۔

سوشلستان والوں کو سمجھ نہیں آ رہا کہ وہ کیا کریں، عمران خان کی تیسری شادی پر توجہ رکھیں یا قصور میں ہونے والے ہولناک واقعے کی مذمت کریں۔ سوشلستان میں غم و غصے کا یہ عالم ہے کہ لاکھوں ٹویٹس اب تک مذمت اور قاتل کی پھانسی کا مطالبہ کر چکے ہیں مگر اسلام آباد اور کراچی کے پریس کلب کے باہر مظاہرے میں چند درجن سے زیادہ لوگ اتنی ہی موم بتیوں کے ساتھ بمشکل شامل ہوئے۔

اسلام آباد پریس کلب کے باہر تو کوئٹہ کی علمدار روڈ پر 2013 میں ہونے والے دھماکے میں جان سے جانے والوں کی یاد میں شمع جلانے والوں میں ایک انسانی حقوق کے کارکن نے زینب کے حوالے سے بات کرنے سے انکار کردیا کہ ہم کیوں کوئٹہ کے ہلاک شدگان کے بارے میں بات نہیں کر رہے۔ مگر ہم بات کریں گے کہ کیسے اس قتل کو سیاسی ’پوائنٹ سکورنگ‘ اور مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیے

غم و غصے کی لہر،’زینب کے لیے انصاف چاہیے‘

چھ ماہ میں ملک میں’بچوں کے ریپ اور قتل کے 768 واقعات‘

قصور میں زینب کے بہیمانہ قتل کے واقعے کے بعد ملک کے سیاسی رہنماؤں کا رُخ قصور میں بچی کے گھر کی جانب ہوا۔

صحافی اور اینکر طلعت حسین نے لکھا ’مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے یہ دیکھ کر کہ لوگ ایک ریپ اور قتل ہونے والے بچی کی تصاویر اور نام ذاتی پی آر کے ایک لامتناہی سلسلے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ قصور کے ریپ اور قتل کے بہیمانہ واقعے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جانا اتنا ہی ظالمانہ ہے۔ آپ دماغی طور پر بہت ہی غیر متوازن ہوں گے اگر ایسا کریں۔‘

سرفراز احمد رانا نے اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان لوگوں کو ’رانگ نمبر‘ قرار دیا کہ ’ان تمام رانگ نمبروں سے ہوشیار رہیں کہ جو خود غرضی سے معصوم زینب کے خونِ ناحق پر اپنے ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے سیاست کھیل رہے ہیں۔‘

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما افراسیاب خٹک نے لکھا کہ ’زینب (اور دیگر بے گناہوں) کے لیے انصاف کے مطالبے پر سب متفق ہیں لیکن دھرنا بازوں سے ہوشیار رہیں جو اس معصوم بچی کے خون کو تختِ لاہور حاصل کرنے کی لڑائی میں استعمال کرنا چاہتے ہیں، ایسا کرنا معصوم زینب کو دوسری بار قتل کرنے کے مترادف ہوگا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

عمار مسعود نے بہت سے دوسروں کی طرح ایسےموقع پرستوں کو گدھ سے تشبیہ دی ’المیہ یہ ہے کہ ننھی زینب کے المناک اور دردناک واقعے پر مردار کھانے والے سب سیاسی گدھ آسمانوں سے اتر آئے ہیں اور اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے ہنگامے کروا کر اس معصوم کا مردہ بدن اپنی ناپاک اور خون آلود چونچوں سے نوچ رہے ہیں۔‘

اس موقع پر قصور جانے والے ان تمام سیاستدانوں پر یہ بھی اعتراض کیا گیا جیسا کہ طلعت حسین نے لکھا ’آپ پشاور کے اغوا اور ریپ کے واقعے پر تعزیت کرنے نہیں گئے، نوشہرہ کے متاثرین سے آنکھیں چرا رہے ہیں۔ کبھی ڈیرہ اسماعیل خان نہیں گئے اس بچی کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کے لیے جسے ننگا کر کے بازار میں گھمایا گیا مگر قصور آپ فوراً پہنچ گئے۔‘

دوسری جانب زینب کے والد کی جانب سے جے آئی ٹی کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی پولیس ابوبکر خدا بخش کی سربراہی کو مسترد کرنے کے بیان پر ان پر شدید تنقید کی گئی۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان میں سینکڑوں لوگ آٹھ سالہ زینب کے قتل کے واقعے پر احتجاج کر رہے ہیں

محمد اکبر باجوہ نے لکھا ’زینب کے والد نے جے آئی ٹی کے سربراہ کے نام کو مسترد کر دیا ہے جو اُن کے مطابق احمدی ہیں مگر اس بات کا تفتیش سے کیا تعلق ہے؟ ایسا لگتا ہے کہ وہ انصاف نہیں چاہتے بلکہ عوامی تحریک کے رُکن ہونے کی حیثیت سے سیاست کرنا چاہتے ہیں۔‘

یوسف بلوچ کا خیال تھا کہ ’زینب کے والد کے مطابق جے آئی ٹی کے سربراہ کو مسلمان ہونا چاہیے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم انسانیت کے بارے میں زیادہ سوچیں نہ کہ مذہب کے بارے میں۔‘

یونا حیدر نے اسے معاشرتی تعصب قرار دیا اور لکھا ’ہم جتنی بھی مصیبتیں جھیلیں ہمارے اندر کا تعصب اور نفرت نہیں مرتا، چاہے ہماری بیٹی کا ریپ کرنے کے بعد اسے قتل کرنے والا عقیدہ سے مسلمان ہی کیوں نہ ہو، پر کمیشن کی سربراہی قادیانی سے قبول نہیں۔‘

ندیم فاروق پراچہ نے سری صورتحال پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ “ذہن تسلیم نہیں کرتا جس طرح زینب کے والد نے اپنی بچی کو اتنے دردناک طریقے سے کھویا ہے مگر وہ اپنے دینی تعصب کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ ہماری قوم کدھر جا رہی ہے اور یہ لوگ کہاں تک پہنچیں گے۔ شاید ہم اس حد تک پہنچ چکے ہیں۔’

اس ہفتے کی تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ
EPA

Image caption

کراچی میں ایک ماہی گیر مچھلیاں کاٹ کر سوکھنے کے لیے ڈال رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Reuters

Image caption

ایک مزدور بچہ کراچی کی ایک مارکیٹ سے ری سائیکل کی جانے والی اشیا کمر پر لاد کر لے جا رہا ہے۔

About admin

Check Also

’کاش نقیب اللہ کا نام احسان اللہ احسان ہوتا‘

’کاش نقیب اللہ کا نام احسان اللہ احسان ہوتا‘ تصویر کے کاپی رائٹ Twitter Image …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *