Home / Urdu News / سماجی کارکن پروین رحمٰن قتل کیس میں اہم پیشرفت

سماجی کارکن پروین رحمٰن قتل کیس میں اہم پیشرفت

سماجی کارکن پروین رحمٰن قتل کیس میں اہم پیشرفت

Image caption

صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں مارچ 2013 میں سماجی کارکن پروین رحمٰن کو منگھوپیر روڈ، پختون مارکیٹ اورنگی ٹاؤن میں شام 7:15 بجے کے قریب قتل کردیا گیا تھا

سماجی کارکن پروین رحمٰن قتل کیس میں بہت دنوں کی خاموشی کے بعد ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ کیس کی تفتیش کی خاطر بنائی گئی جے آئی ٹی کو حال ہی میں پکڑے جانے والے ملزم امجد حسین آفریدی نے پروین رحمٰن کو قتل کرنے کا سبب بتایا ہے۔

امجد کو 24 اکتوبر کو کراچی کے منگھوپیر کے علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ امجد نے تفتیشی افسران کو بتایا کہ پروین رحمٰن سے کراٹے کلب بنانے پر تنازع ہوا جس کے بعد انھوں نے اپنے باقی ساتھیوں کی مدد سے ان کو مارنے کا منصوبہ بنایا۔

تفتیشی دستاویز کے مطابق، امجد حسین آفریدی کو انسداد دہشتگردی کی شق 7 اے ٹی اے کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔

ایس پی انوسٹیگیشن ذیشان صدیقی کے مطابق امجد کی گرفتاری کے فوراً بعد ایک جے آئی ٹی تشکیل دی گئی جس کے سامنے امجد نے اپنا اعترافی بیان ریکارڈ کرایا۔

بیان میں کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کے کارکن رحیم سواتی اور ان کے کزن ایاز سواتی ایک کراٹے سینٹر بنانا چاہتے تھے جو اورنگی پائلٹ پراجیکٹ کے دفتر کے احاطے میں بننا تھا۔ لیکن پرویز رحمن نے یہ کہہ کر کراٹے کلب کی اجازت دینے سے انکار کردیا کہ ان کا تعلق قبضہ گروپ سے ہے۔

صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں مارچ 2013 میں سماجی کارکن پروین رحمٰن کو منگھوپیر روڈ، پختون مارکیٹ اورنگی ٹاؤن میں شام 7:15 بجے کے قریب قتل کردیا گیا تھاـ چار سال کے عرصے میں کئی اہم گرفتاریاں کی گئیں جن میں عوامی نیشنل پارٹی کے ورکر رحیم سواتی اور ان کے کزن ایاز سواتی کی گرفتاریاں شامل ہیں۔

امجد آفریدی کی گرفتاری اسی حوالے سے اہم سمجھی جا رہی ہے۔ لیکن بی بی سی سے بات کرتے ہوۓ پروین رحمٰن قتل کیس کے وکیل، ایڈووکیٹ فیصل صدیقی نے بتایا کہ وہ امجد کے بیان سے مطمئن نہیں ہیں۔

‘امجد آفریدی کی گرفتاری تب سامنے آئی جب پچھلے ٹرائل کے دوران سپریم کورٹ نے ناراضی کا اظہار کیا اور کہا کہ کیس میں کچھ نہیں ہورہا ہے۔

اس حوالے سے بی بی سی سے بات کرتے ہوۓ عوامی نیشنل پارٹی کے سندھ کے ترجمان یونس بنیری نے کہا کہ ‘ہم نے شروع سے حکومتی عہدیداروں سے یہی درخواست کی ہے کہ پروین رحمٰن صاحبہ کے کیس میں صحیح سے تفتیش کریں اور قاتلوں تک پہنچے خواہ وہ ہماری پارٹی کا بندہ کیوں نہ ہو۔ اس معاملے میں پہلے کہا گیا کہ رحیم سواتی اور اس کے ساتھیوں نے انکشاف کیا ہے لیکن اب یہ امجد آفریدی کی گرفتاری کچھ سمجھ نہیں آرہی ہے۔ لیکن ہم حکومت اور پولیس کی ساتھ ہیں۔’

ڈی آئی جی ویسٹ، ذوالفقار لارک نے کہا کہ پولیس پر الزام لگانا غیر منصفانہ ہے۔

‘اس کیس میں ملزم ایک جگہ سے تعلق نہیں رکھتے جس کی وجہ سے تفتیش مکمل ہونے میں وقت لگ رہا ہے، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ پولیس جان بوجھ کر کیس حراب کر رہی ہے۔’

جولائی 2013 میں انسانی حقوق کمیشن پاکستان کی ظہرا یوسف نے سپریم کورٹ میں پٹیشن فائل کی جس میں انھوں نے کیس کی انکوائری دوبارہ سے شروع کرنے کی درخواست کی جو 2014 میں اس وقت کے چیف جسٹس، تصدق حسین جیلانی نے منظور کرلی۔ کیس کی تفتیش دوبارہ شروع کرنے کی درخواست اس لیے جمع کرائی گئی کیونکہ مارچ 2013 میں پروین کے قتل کے دوسرے ہی دن منگھوپیر کے ایس ایچ او اشفاق بلوچ نے پولیس مقابلے میں قاری بلال کو مارنے کا دعوٰی کیا جس کے بعد ڈی آئی جی ویسٹ جاوید اوڈھو نے کہا کہ پروین رحمٰن کے قتل کا کیس اب حل ہوگیا ہے۔

اس کے برعکس، پروین رحمٰن کے گھر والوں، او پی پی کے کارکنوں اور کیس سے جڑے تفتیشی افسران کے مطابق ان کو مختلف ذرائع سے دھمکیاں موصول ہوتی رہیں۔

فیصل صدیقی کے مطابق جب سپریم کورٹ نے انسپیکٹر جنرل کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تو او پی پی کے کارکنوں کو کیس سے دستبردار ہونے کے لیے ‘نامعلوم افراد’ کی طرف سے دھمکیاں موصول ہوئیں۔

ان سب باتوں کے پیش نظر، سپریم کورٹ نے ایک ممبر جوڈیشل کمیشن تشکیل دی جس کی کارروائی انتہائی دباؤ میں مکمل کی گئی۔ اس کے بعد جون 2014 میں جوائنٹ انوسٹیگیشن ٹیم تشکیل کی گئی۔

ایک اہم پیش رفت 2015 میں ہوئی جب مانسہرہ سے پپو کشمیری کی گرفتاری سامنے آئی۔ اس نے انسداد دہشتگری کی عدالت کو دو نام بتائے جن میں ایک زکریا اور دوسرا رحیم سواتی ہے۔

فیصل صدیقی نے کہا کہ ‘ہم پر امید ہیں لیکن ٹرائل میں ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ تفتیش اب تک مکمل نہیں ہوئی ہے جس کا ثبوت حال ہی میں ہونے والی گرفتاری ہے جو اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ تفتیش مکمل ہونے میں ابھی وقت ہے۔’

About admin

Check Also

15 افراد کے قتل میں ملوث، کالعدم تنظیم کا کمانڈر ہلاک کرنے کا دعویٰ

15 افراد کے قتل میں ملوث، کالعدم تنظیم کا کمانڈر ہلاک کرنے کا دعویٰ تصویر …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *