Home / Urdu News / رضا خان: لاپتہ کارکن کے بارے میں خدشات میں اضافہ

رضا خان: لاپتہ کارکن کے بارے میں خدشات میں اضافہ

رضا خان: لاپتہ کارکن کے بارے میں خدشات میں اضافہ

Image caption

لاہور سے لاپتے ہونے والے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ رضا خان کے بارے میں خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔

گزشتہ ہفتے لاہور سے لاپتہ ہونے والے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ رضا خان کے بارے میں خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔

رضا خان تحریک لبیک کی جانب سے اسلام آباد میں دیے گئے متنازعہ دھرنے کے موضوع پر ہونے والی ایک بحث میں شرکت کے بعد سے لاپتہ ہیں۔

رواں برس کے آغاز میں بھی کئی سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ’لاپتہ‘ ہوئے تھے جنھیں کچھ عرصے بعد ’رہا‘ کر دیا گیا تھا۔ ان میں سے لاپتہ ہونے والے دو افراد نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ انہیں ’ریاستی ایجنسی‘ نے اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ لیکن فوج نے ان واقعات میں کسی بھی طرح ملوث ہونے سے انکار کیا تھا۔

گزشتہ سنیچر کو رضا خان نے متنازعہ دھرنے کے موضوع پر بحث کے لیے لاہور میں ایک چھوٹی سی تقریب کے انعقاد میں مدد کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

حراست کے دوران ’چمڑے کے پٹّے سے مارا جاتا تھا‘

لاپتہ سماجی کارکن سلمان حیدر واپس آ گئے

ایک اور لاپتہ بلاگر عاصم سعید بھی لوٹ آئے

اسلام آباد میں کئی دنوں تک جاری رہنے والے اس دھرنے کو ختم کرانے کے لیے فوج کی جانب سے ثالث کا کردار ادا کیا گیا اور اس کے بعد دھرنا ختم کرنے کا اعلان ہوا تھے۔

کچھ تجزیہ کاروں نے فوج پر دھرنے کی درپردہ حمایت کے الزامات لگائے لیکن پاکستان آرمی نے سیاسی معاملات میں مداخلت کے الزامات سے انکار کیا تھا۔

رضا خان کے دوست عمیر وحیدی بھی دھرنے پر ہونے والی بحث میں شریک تھے۔ ان کے بقول وہاں ’اچھے ماحول میں اور کھل کر‘ گفتگو ہوئی اور ‘لوگوں نے کھل کر مختلف خیالات کا اظہار کیا اور وہاں کوئی عداوت سامنے نہیں آئی‘۔

عمیر وحیدی کا مزید کہنا تھا کہ وہاں توہین رسالت کے قانون اور ’اس کے غیر مسلم اقلیتوں کے خلاف استعمال‘ پر بھی بات ہوئی۔

کوئی جواب نہیں

عمیر وحیدی کا کہنا تھا کہ بحث مبحاثے کی تقریب رات آٹھ بجے ختم ہوئی اور تمام شرکا گھروں کو چلے گئے اور یہ وہ آخری وقت تھا جب دوستوں کی رضا خان سے بات ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اگلے روز اتوار کو تقریباً دوپہر ڈیڑھ بجے میں نے رضا خان کو فون کیا لیکن اس کا فون بند تھا۔ اس کے بعد میں نے اس کے باقی دوستوں کو فون کرنا شروع کیا‘۔

عمیر کے مطابق ‘جب رضا خان سے رابطے کی تمام کوششیں ناکام ہوئیں تو ہم سارے دوست رات ساڑھے گیارہ بجے ان کے گھر چلے گئے‘۔

’ان کے گھر میں لائٹ جلی ہوئی تھی جو کہ عجیب سی بات تھی۔ دروازے کو تالا لگا تھا لیکن اس کے کمرے سے کوئی چیز غائب نہیں تھی اور وہاں کسی قسم کی مزاحمت کے آثار نہیں تھے۔ لیکن اس کے ہمسائیوں اور مالک مکان سمیت کسی کو اس کے بارے میں کچھ پتہ نہیں تھا‘۔

رضا خان کے بھائی نے پولیس کو یہ کہہ کر کیس رپورٹ کر دیا ہے کہ انہیں لگتا ہے کہ رضا خان کو اغوا کیا گیا ہے۔

About admin

Check Also

جنگِ اکہتر کا لمحہ جو دلی کے قومی عجائب گھرمیں محفوظ ہے

جنگِ اکہتر کا لمحہ جو دلی کے قومی عجائب گھرمیں محفوظ ہے تصویر کے کاپی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *