Home / Urdu News / 'خوف ہوگا تو سیاسی اشتہارات کا اثر بھی ہوگا‘

'خوف ہوگا تو سیاسی اشتہارات کا اثر بھی ہوگا‘

'خوف ہوگا تو سیاسی اشتہارات کا اثر بھی ہوگا‘

تقریبا پانچ فٹ کی گلی، دونوں اطراف میں چھوٹی چھوٹی دکانیں، جس کے داخلی دروازے پر پارٹیوں کی جھنڈے لگے ہوئے ہیں اور دکان کے بالکل سامنے سجے سجائے سٹال پر پارٹیوں کی ٹوپیوں، بیجز اور سیاسی قائدین کی سٹیکرز پر لوگوں کا ہجوم ہے۔

یہ پشاور کے قصہ خوانی بازار کے قریب صدیوں پرانا پرنٹنگ پریس۔

مارکیٹ محلہ جنگی ہے جہاں پاکستان میں انتخابات آتے ہی رونق آ جاتی ہے۔

سیاسی پارٹیوں اور امیدواروں کی طرف سے اشتہاری مہم کے لیے پوسٹرز، بینرز، سٹیکرز، ٹوپیوں اور جھنڈوں کے آڈرز آنے شروع ہوجاتے ہیں اور مارکیٹ جو عام دنوں دس سے 12 گھنٹے کام کرتے ہے وہاں کام کا دورانیہ شفٹوں میں ہوکر 24 گھنٹوں تک پہنچ جاتا ہے۔

انتخابات میں اشتہار کی مہم کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ امیدواروں اور سیاسی پارٹیوں کو اس پر یقین ہے کہ جتنی اشتہاری مہم مضبوط ہوگی اتنا ہی امیدوار کے جیتنے کے چانسز زیادہ ہوں گے۔

الیکشن کمیشن کے قوانین کے مطابق قومی اسمبلی کے امیدوار 40 لاکھ تک جبکہ صوبائی اسمبلی کے امیدوار 20 لاکھ روپے تک اشتہاری مہم پر خرچ کر سکتا ہے۔

لیکن اب سوال یہ پیدا ہو جاتا ہے کہ کیا واقعی ایسا ہی ہے جیسا کہ امیدوار سوچتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پشاور: خودکش دھماکے میں 20 ہلاکتیں، شہر سوگوار

ووٹ’بیچنے‘ والے کون کون ہیں؟

اس سوال کے جواب میں پشاور کہ ایک شہری محمد شعیب نے بی بی سی کو بتایا کہ اشتہارات کی اہمیت ضرور ہے لیکن وہ خود پہلے امیدوار کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ کون ہے، کس خاندان سے ان کا تعلق ہے اور ان کا ماضی کیسا رہا ہے۔

‘میں تو 50 فیصد اشتہار دیکھ کر اور 50 فیصد خود امیدوار کے بارے میں جان کر ووٹ دیتا ہوں۔ اشتہار اس حد تک ضروری ہے کہ ایک ووٹر کو یہ پتہ چلے کہ امیدوار کا انتخابی نشان کیا ہے۔’

ایک دوسرے شہری نے کہا کہ وہ اشتہار پر یقین ہی نہیں کرتے۔ حضرت علی نامی شہری کے مطابق وہ کئی سالوں سے ایک ہی پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں اور وہ پارٹٰی جو بھی امیدوار ان کے حلقے سے کھڑا کرتی ہے وہ اسی کو ہی ووٹ دیتے ہیں۔

پاکستان میں روایتی اشتہاری مہم کے ساتھ ساتھ اب نت نئے طریقے بھی ایجاد ہو چکے ہیں۔ اس میں سب سے اہم سوشل میڈیا کو سمجھا جاتا ہے۔

انتخابی امیدواروں اور سیاسی پارٹیوں کی طرف سے فیس بک پر مختلف پیجز بھی بنائے گئے ہیں جہاں وہ اپنے صارفین کے ساتھ اپنا منشور شیئر کرتے ہیں اور ان سے براہ راست کمنٹس میں بات چیت بھی کرتے ہیں۔

پشاور میں ایک سیاسی پارٹی کے سوشل میڈیا کوارڈینیٹر محمد فرقان کہتے ہے کہ ‘غیر روایتی اشتہاری مہم کا اب روایتی اشتہاری مہم پر پلہ بھاری ہے کیونکہ غیر روایتی اشتہاری پلیٹ فارم جیسا کہ فیس بک پرامیدوار اپنے سپورٹر سے براہ راست بات کر سکتا ہے اور ان کو جلد فیڈ بیک بھی مل جاتی ہے۔

اشتہارات کے ووٹرز کے رویے پر اثر کے بارے میں دنیا بھر کی جامعات میں تحقیق بھی کی گئی ہے۔ پاکستان کے سنہ 2013 کے انتخابات پر ہونے والی پنجاب یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں اشتہارات ووٹرز کے رویوں پر زیادہ اثر انداز نہیں ڈالتے۔

تحقیق میں وجہ یہ لکھی گئی ہے کہ چونکہ پاکستانی معاشرہ بالخصوص دیہی علاقوں میں شخصیات کو کم اور سیاسی پارٹی کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ سیاسی پارٹی جو بھی امیدوار کھڑا کرتا ہے ان کا سپورٹر انھی کو ووٹ دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مولوی سے علامہ تک، خادم رضوی کا سفر

ابلاغ عامہ کے ماہرین اس کو ایک اور زاویے سے دیکھتے ہیں۔ ڈاکٹر الطاف اللہ خان پشاور یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ کے پروفیسر ہیں۔

ان کا خیال ہے کہ ابلاغ کی تھیوری جو ‘میجک بلیٹ’ تھیوری کے نام سے جانی جاتی ہے کا استعمال 50 کی دہائی میں ہوا تھا جب جنگ عظیم کے بعد خوف کا ماحول تھا۔

اسی تھیوری کو ابلاغ عامہ میں ایک کلیدی حیثیت حاصل ہے جس میں ابلاغ عامہ کے ذرائع جیسا کہ ٹی وی اور اخبار میں کوئی خبر یا کسی مسئلے کے بارے میں موضوع اس حد تک بیان کیا جائے کہ لوگ ان پر یقین کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

اس اصول کے مطابق ایک پیغام کو عوام تک پہنچایا جاتا ہے اور عوام اس پر اس لیے یقین کرنا شروع کر دیتے ہیں کیونکہ ان کے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہوتا کہ اس پیغام پر تحقیق کریں۔

الطاف اللہ خان کے مطابق اس خوف کے اصول کو 50 کی دہائی کے بعد بھی عوام کے رائے دینے کی عادت میں تبدیلی کیلیے استعمال کیا گیا تھا اور اس میں رائے بنانے والے ماہرین کو کامیابی بھی ملی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

’جو ہم سے بات نہیں کرتے تھے اب ہم ان کی نگرانی کریں گے‘

این اے چار کے ضمنی انتخاب کے چار سبق

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اب بھی سیاستدان اسی خوف کی فضا کو استعمال کرتے ہیں جیسا کہ پاکستان میں پایا جاتا ہے کہ فلاں ملک پاکستان کے لیے خطرہ ہے، فلاں ملک پاکستان پر حملہ کرے گا جیسے خوف لوگوں پر طاری کرتے ہیں۔

‘یہ خوف جب ہوگا تو اشتہار کا اثر ضرور ہوتا ہے اور انہی اشتہارات میں کیے گئے وعدوں پر عوام یقین بھی کرتے ہیں لیکن غیر روایتی میڈیا کے آنے کے بعد اسی تھیوری کو استعمال کر کے سیاستدان عوام کے رویوں میں زیادہ تبدیلی نہیں لا سکتے کیونکہ بہت سے لوگ اب خود تحقیق بھی کرتے ہیں۔’

لیکن الطاف اللہ خان کے مطابق شہری اور دیہی علاقوں میں اس کے اثرات یکسر مخلتف ہیں۔ وہ کہتے ہے کہ شہری علاقوں میں زیادہ تر فیکٹس پر یقین کیا جاتا ہے کہ ملک میں کوئی مسئلہ کتنا ہے اور کوئی امیدوار ان کو کس طرح حل کر سکتا ہے اور شہری علاقوں میں اسکا اثر دیہی علاقوں کے نسبت زیادہ ہوتا ہے۔

کیونکہ ان کے مطابق دیہی علاقوں میں اکیکٹیبلز کی سیاست ہوتی ہیں جہاں ہر اشتہار کم دیکھا جاتا اور ان کا اثر زیادہ نہیں ہوتا کیونکہ پرانے لوگ ہی زیادہ تر نامزد کیے جاتے ہیں۔

About admin

Check Also

شاہ محمود قریشی: انڈیا کی جانب سے دیا گیا جواب غیر سفارتی اور نامناسب تھا

شاہ محمود قریشی: انڈیا کی جانب سے دیا گیا جواب غیر سفارتی اور نامناسب تھا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *