Home / Urdu News / جنوبی وزیرستان میں موسیقی اور رقص پر پابندی

جنوبی وزیرستان میں موسیقی اور رقص پر پابندی

جنوبی وزیرستان میں موسیقی اور رقص پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

پیفلٹ کی تقسیم کے بعد وانا بازار کے علاقے میں سی ڈی فروخت کرنے والی دکانیں بند کر دی گئی ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان ایجنسی میں ایک مرتبہ پھر خوشیاں منانے یا شادی بیاہ اور منگنی کے موقع پر موسیقی سننے یا اس پر رقص کرنے پر ایک پمفلٹ کے ذریعے پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

یہ پمفلٹ چند روز قبل جنوبی وزیرستان کے ہیڈ کوارٹرز وانا میں تقسیم کیےگئے اور مساجد میں پڑھ کر سنائےگئے ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ یہ پابندیاں عائد کرنے کے لیے علاقے کی معتبر شخصیات اور علما کرام کا جرگہ منعقد ہوا جس میں اتفاق رائے سے پابندی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

’قبائلی علاقوں میں خوراک کی فراہمی میں اضافہ ہوا ہے‘

فاٹا اصلاحات کی کہانی

Image caption

یہ پیمفلٹ مساجد اور بازاروں میں تقسیم کیا گیا ہے

اس پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ شادی بیاہ یا منگنی پر مُنکرات یعنی رقص، گانے بجانے، سازو آواز کی محفل منعقد کرنے، منشیات استعمال کرنے اور قومی روایات کے منافی خوشی کا بر ملا اظہارکرنے پر پابندی عائد ہوگی۔ اس کے علاوہ خواتین کو محرم کے بغیر بازار، ڈاکٹر یا روحانی علاج کے لیے کسی کے پاس جانے پر پابندی عائد ہوگی اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے قومی مجرم تصور کیے جائیں گے۔

مقامی لوگوں کے مطابق اس پفلٹ کے بعد اس علاقے میں سی ڈی فروخت کرنے والی دکانیں بند کر دی گئی ہیں۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ سپر مارکیٹ میں چند موبائل فون کی دکانیں بھی بند کر دی گئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
ISPR

Image caption

جن علاقوں میں فوجی آپریشن کیے گئے وہاں بیشتر متاثرین کی واپسی بھی مکمل ہو گئی ہے

یہ پمفلٹ ایک عرصے کے بعد اس علاقے میں تقسیم کیےگئے ہیں اور اطلاعات ہیں کہ جرگے نے یہ فیصلے مقامی سطح پر متعدد شکایات موصول ہونے کے بعد کیے ہیں۔

جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن سنہ 2009 میں شروع کیا گیا تھا لیکن شمالی وزیرستان میں جون 2014 میں شروع ہوا تھا۔ اس کے علاوہ آپریشن ضرب عضب کا دائرہ کار بھی جنوبی وزیرستان ایجنسی تک پھیلا دیا گیا تھا۔

وانا بازار میں حکومت کے حمایتی گروپ کی موجودگی کی اطلاعات تھیں لیکن جنوبی وزیرستان کے دیگر علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف بھر پور کارروائیاں کی گئی تھیں۔ جن علاقوں میں فوجی آپریشن کیے گئے وہاں بیشتر متاثرین کی واپسی بھی مکمل ہو گئی ہے۔

اس عرصے میں اس طرح کے پمفلٹس یا پابندیوں کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی تھیں لیکن اب ایک مرتبہ پھر یہ پمفلٹس تقسیم کیے گئے ہیں۔

About admin

Check Also

15 افراد کے قتل میں ملوث، کالعدم تنظیم کا کمانڈر ہلاک کرنے کا دعویٰ

15 افراد کے قتل میں ملوث، کالعدم تنظیم کا کمانڈر ہلاک کرنے کا دعویٰ تصویر …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *