Home / Urdu News / جنرل باجوہ کی جیمز میٹِس سے ملاقات: ’پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے حصے سے زیادہ کام کیا ہے‘

جنرل باجوہ کی جیمز میٹِس سے ملاقات: ’پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے حصے سے زیادہ کام کیا ہے‘

جنرل باجوہ کی جیمز میٹِس سے ملاقات: ’پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے حصے سے زیادہ کام کیا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ
iSPR

پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے اپنے حصے سے زیادہ کام کیا ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان کے مطابق آرمی چیف نے امریکہ وزیرِ دفاع جیمز میٹِس کو بتایا کہ پاکستان نے اپنے محدود وسائل میں بہت کچھ کیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق امریکہ کے وزیرِ دفاع جیمز میٹِس نے پیر کو جی ایچ کیو میں آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے ملاقات کی۔

یہ بھی پڑھیے

میٹِس کا ‘ڈو مور’ دورہ، مشترکہ میدان تلاش کرنے کی کوشش

پاکستان امریکہ تعلقات، بیان بدلتے ہیں لیکن عینک نہیں

اس موقع پر جنرل قمرجاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں دہشت گردی کے محفوظ ٹھکانے ختم کیے جانے ضروری ہیں۔

آرمی چیف نے واضح کیا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں ہے اور پاکستان امریکہ سے صرف انڈرسٹینڈنگ چاہتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
PRIME MINISTER HOUSE

ان کا مزید کہنا تھا کہ افغان سرزمین کے انڈین استعمال پر تحفظات دور کیے جانے چاہئیں۔ پاکستان افغان مہاجرین کی با وقار اور جلد واپسی چاہتا ہے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے جیمز میٹِس کو بتایا کہ پاکستان کے اندر دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانے ختم کر دیے گئے ہیں تاہم پاکستان اس امر کا جائزہ لینے کے لیے تیار ہے کہ کیا کوئی شرپسند کہیں افغان پناہ گزینوں کے لیے پاکستان کی ہمدردی سے ناجائز فائدہ تو نہیں اٹھا رہا ہے۔

امریکی وزیر دفاع جنرل جیمز میٹِس نے آرمی چیف سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج نے دہشت گردوں کے خلاف مؤثر اقدامات کیے تاہم کچھ عناصر پاکستان کی سرزمین کو افغانستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

جیمز میٹِس کا کہنا تھا کہ امریکہ پاکستان کے تحفظات دور کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے، ہم پاکستان سے کوئی مطالبہ نہیں کر رہے بلکہ اس سے مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔

اس سے پہلے امریکی وزیرِ دفاع جیمز میٹِس نے پاکستانی وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا کہ ان کے دورۂ پاکستان کا مقصد پاکستان کے ساتھ مثبت، مستقل اور طویل مدت تعلقات کے قیام کے لیے مشترکہ میدان تلاش کرنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں سے آگاہ ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان شراکت داری کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

About admin

Check Also

جنگِ اکہتر کا لمحہ جو دلی کے قومی عجائب گھرمیں محفوظ ہے

جنگِ اکہتر کا لمحہ جو دلی کے قومی عجائب گھرمیں محفوظ ہے تصویر کے کاپی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *