Home / Urdu News / ’بھائی جان موبائل توڑ دیں گے ویڈیو نہ بنائیں‘

’بھائی جان موبائل توڑ دیں گے ویڈیو نہ بنائیں‘

’بھائی جان موبائل توڑ دیں گے ویڈیو نہ بنائیں‘


Image caption

احتجاج کے دوران پولیس کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کو جڑواں شہر راولپنڈی بلکہ دیگر شہروں سے ملانے والی مرکزی شاہراہ اسلام آباد ایکسپریس وے پر فیض آباد انٹرچیج کے مقام پر گذشتہ ایک ہفتے سے جاری مظاہرے کے دوران ٹریفک کے ساتھ ساتھ موبائل سگنلز اور موبائل کیمرے کا استعمال بھی بند ہے۔

اسلام آباد ایکسپریس وے 10 لین کی مرکزی شاہراہ ہے جسے منگل کے روز ڈنڈا بردار نوجوانوں نے ایک قطار میں کھڑے ہوکر مکمل طور پر بند کیا ہوا تھا اور وہ ‘لبیک یا رسول اللہ’ کے نعرے لگا رہے تھے۔ یہی صورتحال فیض آباد انٹر چینج کی طرف آنے والے دیگر راستوں کی بھی تھی۔

احتجاج کے بارے میں یہ بھی پڑھیے

1500 افراد کا دھرنا، حکومت خاموش تماشائی کیوں؟

’اسلام آباد کو تین ہزار مولویوں نے یرغمال بنا رکھا ہے‘

’احتجاج کرنے والوں کی وجہ سے بچہ ہلاک ہوا‘

ایکسپریس وے پر فیض آباد کے علاقے میں ٹریفک احتجاج کی وجہ سے اور موبائل سگنلز سیکیورٹی اداروں کی منطق کی وجہ سے بند ہیں لیکن یہاں موبائل کیمرے کا استعمال اس لیے بند ہے کہ وہ مظاہرین کی منفی تصویر کشی لیے استعمال ہوتا ہے۔

جب ان مظاہرین کی کوریج کے غرض سے میں نے موبائل سے نکالا اور ویڈیو بنانی شروع کی تو ایک نوجوان عدنان (فرضی نام) میرے پاس آیا اور کہا ‘بھائی جان موبائل توڑ دیں گے ویڈیو نہ بنائیں’۔

عدنان نے بتایا کہ وہ بھی احتجاج کرنے والوں کی وجہ سے پریشان تھا اور ان کی ویڈیو بنا رہا تھا کہ چند مظاہرین نے انھیں گھیر لیا اور دھکے دینے کے بعد ان کا موبائل توڑدیا۔

Image caption

فیض آباد پر مظاہرین نے رکاوٹیں لگا کر ٹریفک کی آمد و رفت بند کی ہوئی ہے

انھیں بتایا گیا کہ ان کا موبائل اس لیے توڑا گیا کہ وہ مظاہرین کی ویڈیو بنا کر انھیں بدنام کریں گے اور ان کے احتجاج کی منفی تصویر کشی کریں گے۔

اسی گفتگو کے دوران وہاں سے پولیس اور رینجرز کی گاڑیوں کا گزر ہوا جنھیں نعروں کے درمیان راستہ تو مل گیا لیکن وہ ایمبولینس پھر بھی وہیں پھنسی رہی جو کسی مریض کو لینے جا رہی تھی۔

جب پیدل سفر کرنے والوں کو یہ آسانی ہے کہ انھیں پیدل چلنے کے لیے کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ پیدل چلتے ہوئے جب گاڑیوں کے لیے لگائی گئی ایک رکاوٹ کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ چند ڈنڈا بردار نوجوان رکاوٹ کو ہٹا رہے تھے اور ایک چھوٹی گاڑی کو گزرنے کی اجازت دی جا رہی تھی۔

پوچھنے پر پتا چلا کہ احتجاج ختم نہیں ہوا لیکن ایک ‘غریب مریض’ تھا تو اسے گزرنے دیا۔ اس ہی دوران چند موٹر سائیکل سواروں نے بھی اپنے آپ کو غریب بتا کر گزرنے کے لیے راستہ مانگا جسے سخت لہجے میں منع کردیا گیا۔ لہجے کی سختی کا وہی اثر ہوا جو عام طور پر ایسے ماحول میں ہوتا ہے۔ موٹر سائیکل سواروں اور رکاوٹ پر کھڑے مظاہرین کے درمیان ‘دھکم پیل’ شروع ہوئی جسے دونوں جانب موجود لوگوں نے قابو کرلیا لیکن موٹر سائیکل سواروں کو گزرنے کا راستہ پھر بھی نہ ملا۔

Image caption

پولیس کی مدد کے لیے ایف سی کو بھی تعینات کیا گیا ہے

دونوں شہروں کے درمیان اربوں روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی میٹرو بس سروس بھی ایک ہفتے سے بند پڑی ہے جس سے روزانہ لاکھوں لوگ مستفید ہوتے ہیں۔ فیض آباد پر میٹرو بس کے سٹیشن پر ہو کا عالم تھا اور لوگ اس کے پل پر کھڑے ہوکر حالات کا جائزہ لے رہے تھے۔

ایک مقامی رہائشی عمار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس احتجاج کی وجہ سے متبادل راستوں سے ‘جو سفر آدھے گھنٹے میں طے ہوتا تھا فی الحال تین سے چار گھنٹوں کے دوران طے ہو رہا ہے۔’

مظاہرین میں سے ایک شخص سے پوچھا کہ آپ کہاں سے تعلق رکھتے ہیں اور کیوں احتجاج کر رہے ہیں تو جواب ملا ‘رسول اللہ سے متعلق حلف نامے میں شرارت کرنے والے کی برطرفی چاہتے ہیں اس کے علاوہ کچھ نہیں۔’

حکومت نے غلطی تو تسلیم کرلی ہے پھر یہ احتجاج کیوں کر رہے ہیں؟

Image caption

رکاوٹوں کی وجہ سے ٹریفک کی روانی میں خلل پڑا ہے

اس سوال کا جواب ملا ‘ترقی یافتہ ممالک کی مثال صرف پیسے کھانے کے منصوبوں میں دیتے ہیں ایسے غلطی پر وہاں خود استعفی دے دیا جاتا ہے یہاں تومانگنے پر بھی ٹس سے مس نہیں ہو رہے۔’

الٹا ایک سوال داغ دیا گیا ‘آپ کو کبھی سگنل توڑنے پر معافی ملی ہے؟’

سات دن بعد بلاآخر وزیرِ مملکت برائے داخلہ نے یہ تو کہہ دیا ہے کہ مذاکرات کی کوشش کریں گے لیکن مظاہرین سن لیں ‘راستہ تو دینا ہوگا۔’

لیکن ہوگا کب اور کیسے اس کی وضاحت شاید وقت ہی کرے۔

About admin

Check Also

15 افراد کے قتل میں ملوث، کالعدم تنظیم کا کمانڈر ہلاک کرنے کا دعویٰ

15 افراد کے قتل میں ملوث، کالعدم تنظیم کا کمانڈر ہلاک کرنے کا دعویٰ تصویر …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *