Home / Urdu News / ’بڑا سیاستدان کون ہے آصف علی زرداری یا عمران خان‘

’بڑا سیاستدان کون ہے آصف علی زرداری یا عمران خان‘

’بڑا سیاستدان کون ہے آصف علی زرداری یا عمران خان‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

سوشلستان میں سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے بعد ہر سیاسی جماعت جس نے نیشنل پارٹی کے صدر حاصل خان بزنجو کے مطابق ‘منہ کالا کیا ہے’ اب سوشل میڈیا پر ان کے جنگجو توجیحات پیش کر رہے ہیں۔

مدعا یہ ہے کہ ثابت کیا جائے کہ بڑا سیاستدان کون ہے آصف علی زرداری یا عمران خان یا پھر ‘جس کی پشت پر ہاتھ ہے’ وہ والا مڈل مین؟

آصف علی زرداری نے پی ٹی آئی کو چاروں شانے چت کیا یا عمران خان صاحب نے سیاسی تدبر اور بصیرت کا مظاہرہ کیا۔ مگر یہ سب ایسا ہی ہے جیسے سانپ کے گزرنے کے بعد لکیر کا پیٹنا۔ تو ہم بات کریں گے پاکستانی ٹی وی چینل کے مارننگ شو میں نسل پرستی کا۔

ٹی وی چینل پر نسل پرستی

تصویر کے کاپی رائٹ
Hum TV

Image caption

صاف رنگت کی ماڈلز پر گہری رنگت کا میک اپ

پاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل کے مارننگ شو میں خواتین کے میک اپ کا مقابلہ منعقد کیا گیا جس میں معروف اداکاراؤں کو منصف بنایا گیا جن کے ساتھ بیوٹیشنز نے خواتین کو دلہن کے طور پر تیار کر کے دکھانا تھا۔

یہاں تک تو بات ٹھیک ہے مگر پھر ان بیوٹیشنز کو کہا گیا کہ وہ گہری رنگت یا سانولی رنگت یا جسے پروگرام میں ‘حبشن’ کہا گیا کو دلہن کے طور پر تیار کرنا تھا۔

بات یہاں تک بھی شاید نہ بگڑتی مگر اس مقصد کے لیے صاف رنگت والی ماڈلز کو گہری رنگت کا میک اپ لگا کر تیار کیا گیا اور اس سارے عمل کے دوران جو زبان اور اصطلاحات استعمال کی گئیں اس پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

نادیہ قریشی نے اپنی حیرت کا اظہار کچھ یوں کیا کہ ‘او میرے خدایا امبر (اداکارہ جو منصفی کے فرائض ادا کر رہی تھیں) جاگو پاکستان جاگو میں ‘ن’ کا لفظ استعمال کر رہی ہیں اور پھر اس کا ترجمہ حبشی کر کے بتا رہی ہیں۔ یہ تو میری توقع سے بھی زیادہ برا ہے۔’

سیدہ زینب نے لکھا ‘جب آپ سوچتے ہیں کہ یہ لوگ مزید نہیں گر سکتے یہ آپ کو غلط ثابت کرتے ہیں۔ مارننگ شو کو کیا کوئی گہری رنگت کی خاتون نہیں ملی اس پورے ملک میں کہ انہیں ایک صاف رنگت والی لڑکی کو ماڈل بنا کر ‘حبشن’ کے لیے میک اپ کی ترکیبیں دکھائیں؟’

میمونہ خواجہ نے تبصرہ کیا کہ ‘میں بہت حیران ہوں کیا گہری رنگت والی ماڈلز ڈھونڈنا اتنا مشکل کام تھا۔’

آمنہ نے لکھا کہ ‘میں نے یہ شو دیکھا اور یہ جہالت سے آگے کی چیز لگی۔ میزبان اور منصف بہت ہی تحقیر آمیز تھے اور بدتمیز تھے۔ میں بہت ہی حیران ہیں۔’

پاکستانی پاپ کلچر نام کے ٹوئٹر ہینڈل نے تبصرہ کیا کہ ‘نہ صرف سیاہ چہرے اور نسل پرستی پر مبنی مواد کو اس پروگرام میں نارمل طور پر دکھایا گیا بلکہ میک اپ آرٹس نے انہیں ‘حبشن’ اور ‘ن` کہا۔ ہمیں یقیناً گہری رنگت کی خواتین کو پاکستانی میڈیا پر زیادہ نمائندگی دینی چاہیے۔ مگر یہ بالکل مناسب نہیں ہے۔’

اشک نام کے ٹوئٹر ہینڈ نے لکھا ‘میں نے شو دیکھا اور شدید کراہت محسوس ہوئی۔ آج کے دور میں ماڈلز کے چہروں کو سیاہ کرنا صرف میک اپ اور دکھاوے کے لیے۔ ایک چینل کے پروگرام میں کھلی نسل پرستی۔’

ہمنہ زبیر نے لکھا کہ ‘پاکستانی پروڈیوسرز سیاہ چہرہ بالکل مناسب نہیں۔ اور یہ کہنا بھی بالکل ٹھیک نہیں کہ گہری رنگت کے چہروں پر میک اپ کرنا بہت زیادہ مشکل ہے۔’

یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستانی چینلز پر نسل پرستی پر مبنی باتیں کہیں گئی ہوں اکثر ٹی وی چینلز پر پیش کیے جانے والے شو کامیڈی یا مزاحیہ شوز میں لازمی ایک کردار ایسا رکھا جاتا ہے جو یا تو وزنی ہوتا ہے یا اس کی رنگت سیاہ ہوتی ہے اور اس کی بنیاد پر اس کی مزاق اڑایا جاتا ہے۔

سٹیج ڈراموں میں تو یہ بہت ہی شدید رنگ میں سامنے آتا ہے جس میں ایسے افراد کو مختلف تشبیہات دی جاتی ہیں۔

اس ہفتے کی تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

Image caption

اسلام آباد میں حکام بائیس سالہ حافظ رضوان یونس کو بجلی کے کھمبے سے اتارنے کی کوشش کر رہے ہیں جو احتجاجاً خودکشی کرنے کی نیت سے اس کھمبے پر چڑھا تھا۔ رضوان کا دعویٰ تھا کو انھیں اپنے والد کے قتل کے کیس میں انصاف نہیں ملا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Reuters

Image caption

شام کے شہر غوطہ سے ترکِ وطن کر کے جانے والے خاندان میں شامل یہ بچہ جسے سوٹ کیس میں بٹھا کر اس کے گھر والے لے کر جا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

ایک طویل عرصے کے بعد کراچی میں کرکٹ کے شائقین کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں ہونے والے پاکستان سُپر لیگ کے فائنل میچ کے ٹکٹ خریدنے کے لیے قطار میں کھڑے ہیں۔

About admin

Check Also

’ہراسگی کا شکار مرد ہوں یا خواتین، خاموش رہنا حل نہیں'

’ہراسگی کا شکار مرد ہوں یا خواتین، خاموش رہنا حل نہیں' Image caption پاکستان میں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *