Home / Urdu News / ایگزیکٹ سکینڈل: چیف جسٹس نے از خود نوٹس لے لیا

ایگزیکٹ سکینڈل: چیف جسٹس نے از خود نوٹس لے لیا

ایگزیکٹ سکینڈل: چیف جسٹس نے از خود نوٹس لے لیا

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

Image caption

اگر جعلی ڈگریوں کا سکینڈل صحیح ہے تو پھر ذمہ داروں کو ضرور سزا ملے گی: عدالت

پاکستان کے چیف جسٹس نے جمعے کے روز ایک نجی کمپنی کے جعلی ڈگریاں بیچنے کے سکینڈل پر از خود نوٹس لیا ہے۔

اس ضمن میں وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کے سربراہ کو دس روز میں تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ جعلی ڈگریوں کے بارے میں جتنے بھی مقدمات عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں، ان کی تفتیش کے بارے میں بھی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

بین الاقوامی اور مقامی میڈیا میں نجی کمپنی ایگزیکٹ کے بارے میں شائع ہونے والی خبروں پر از خود نوٹس لیتے ہوئے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ تعلیم کے شعبے میں جعلی ڈگریوں کے معاملے پر “ہمارا سر شرم سے جھک گیا ہے۔”

نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر جعلی ڈگریوں کا سکینڈل صحیح ہے تو پھر ذمہ داروں کو ضرور سزا ملے گی اور اگر یہ خبر غلط ہے تو بطور پاکستانی ہم سب کی یہ ذمہ داری ہے کہ اس کے خلاف کارروائی کریں کیونکہ اس خبر سے ملک کو عالمی برادری میں بدنام کیا گیا ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ متعدد جعلی ڈگریوں کے مقدمات اب بھی مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ تعلیم اور صحت دو ایسے شعبے ہیں جہاں پر کوتاہی یا جعل سازی کو برداشت نہیں کیا جاسکتا۔

واضح رہے کہ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ایگزیکٹ کی جعلی ڈگریوں کے بارے میں ایک امریکی اخبار میں خبر شائع ہونے کے بعد اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ایف آئی اے کو کارروائی کا حکم دیا تھا۔ ایف آئی اے کے حکام نے اس کمپنی کے سربراہ شعیب شیخ سمیت دیگر افراد کو گرفتار کرلیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

Image caption

ایف آئی اے کے حکام نے اس کمپنی کے سربراہ شعیب شیخ سمیت دیگر افراد کو گرفتار کرلیا تھا۔

اسلام آباد کے ایڈشنل سیشن جج پرویز القادر میمن نے جعلی ڈگریاں جاری کرنے کے مقدمے میں ایگزیکٹ کے مالک شعیب شیخ کو بری کردیا تھا بعدازاں یہ بات سامنے آئی کہ مزکورہ جج نے مببینہ طور پر کروڑوں روپے لیکر ملزم کو اس مقدمے سے بری کیا ہے۔

یہ خبر سامنے آنے پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے پرویز القادر میمن کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا اور ان کے خلاف تحقیقات شروع کر دیں اور ان تحقیقات کی حتمی رپورٹ ابھی تک منظر عام پر نہیں آسکی ہے۔

نجی ٹی وی چینل ’بول‘ بھی شعیب شیخ کی ملکیت ہے اور حکومت کا یہ دعویٰ ہے کہ مزکورہ ٹی وی چینل ایگزیکٹ کے خلاف کارروائی ہونے کے بعد اُنھیں مسلسل تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے۔

About admin

Check Also

شاہ محمود قریشی: انڈیا کی جانب سے دیا گیا جواب غیر سفارتی اور نامناسب تھا

شاہ محمود قریشی: انڈیا کی جانب سے دیا گیا جواب غیر سفارتی اور نامناسب تھا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *